دھوکے باز
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - مکار، فریبی، دغا باز۔ "اس دھوکے بازر نے دیکھا کہ وہ پکڑا گیا تو سکہ بدل دیا۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٨٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'دھوکا' کی جمع 'دھوکے' کے ساتھ فارسی مصدر 'باختن' سے صیغہ امر 'باز' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٨٥ء سے "روشنی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مکار، فریبی، دغا باز۔ "اس دھوکے بازر نے دیکھا کہ وہ پکڑا گیا تو سکہ بدل دیا۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٨٩ )